تحریر: ڈاکٹر مولانا شہوار حسین نقوی
حوزہ نیوز ایجنسی| کتاب «عبقات الانوار فی امامۃ الائمۃ الاطہار» عالمِ تشیع کی عظیم علمی، کلامی، حدیثی اور تحقیقی تصنیفات میں ایک ممتاز مقام رکھتی ہے۔ اس کے مؤلف برصغیر کے نامور محقق، محدث اور متکلم حضرت علامہ سید میر حامد حسین موسوی لکھنویؒ ہیں۔
یہ کتاب بالخصوص مسئلۂ امامت و خلافتِ بلافصلِ امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کے اثبات میں ایک عظیم علمی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ علامہ میر حامد حسینؒ نے اس تصنیف میں محض اپنے مذہبی نظریات پیش نہیں کیے، بلکہ اہل سنت کی معتبر کتابوں، روایات، اسناد، رجال اور تاریخی شواہد کی روشنی میں استدلال کا ایک مضبوط علمی نظام قائم کیا ہے۔
اس کتاب کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں ایک ایک حدیث کے مأخذ، طرق، راویوں اور دلالت پر جس وسعت اور باریک بینی سے بحث کی گئی ہے، وہ برصغیر کی علمی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے
علامہ میر حامد حسینؒ نے یہ عظیم کتاب اس وقت تصنیف کی جب شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کی کتاب «تحفۂ اثنا عشریہ» میں شیعہ عقائد، خصوصاً مسئلۂ امامت پر اعتراضات کیے گئے تھے۔
علامہ میر حامد حسینؒ نے ان اعتراضات کا جواب محض مناظرانہ انداز میں نہیں دیا، بلکہ حدیث، تاریخ، علمِ رجال، اصولِ حدیث اور تحقیقِ اسناد کی بنیاد پر ایک جامع علمی جواب تحریر کیا۔
ان کی تحقیق کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ امامتِ اہل بیت علیہم السلام کے دلائل کو ان مستند مآخذ سے پیش کیا جائے جنہیں اہل سنت کے محدثین اور علمائے اسلام نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے۔
عبقات الانوار کی علمی و تحقیقی خصوصیات

(الف) مصادر و مآخذ کی وسعت
اس کتاب کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کے وسیع علمی مصادر ہیں۔ علامہ میر حامد حسینؒ نے اپنی تحقیق میں اہل سنت کی حدیثی، تاریخی، تفسیری اور رجالی کتابوں سے استفادہ کیا ہے۔
ان کا طریقۂ تحقیق یہ ہے کہ کسی حدیث کو پیش کرنے کے بعد اس کے اصل مآخذ، راویوں، سند اور مختلف طرق کا جائزہ لیا جائے۔ اس طرح قاری کو صرف ایک روایت نہیں ملتی بلکہ اس روایت کی علمی تاریخ بھی سامنے آتی ہے۔
(ب) حدیث کی اسنادی تحقیق
عبقات الانوار کا ایک بڑا امتیاز علمِ حدیث میں اس کی غیر معمولی تحقیق ہے۔
علامہ میر حامد حسینؒ نے
احادیث کے راویوں کے حالات کا جائزہ لیا۔
سند کے اتصال اور انقطاع پر گفتگو کی۔
مختلف محدثین کے اقوال نقل کیے۔
حدیث کے متعدد طرق اور مصادر جمع کیے۔
روایت کی صحت اور تواتر کے دلائل پیش کیے۔
یہ اسلوب اس کتاب کو عام مذہبی تصنیف سے بلند کرکے ایک باقاعدہ تحقیقی موسوعہ بنا دیتا ہے۔
(ج) حدیث کی دلالت پر عالمانہ بحث
علامہ کی تحقیق صرف اس بات تک محدود نہیں کہ کسی حدیث کی سند معتبر ہے یا نہیں، بلکہ وہ اس حدیث کے مفہوم اور دلالت کو بھی تفصیل سے واضح کرتے ہیں۔
مثلاً حدیثِ غدیر میں لفظ «مولیٰ» کے مفہوم، سیاق و سباق اور اس سے متعلق علمی مباحث پر گفتگو کرتے ہوئے امامت و ولایت کے استدلال کو مضبوط بناتے ہیں۔
(د) مخالف نظریات کا علمی تجزیہ
اس کتاب کا ایک اہم امتیاز یہ ہے کہ مؤلف مخالفین کے دلائل کو نظرانداز نہیں کرتے، بلکہ پہلے ان کے استدلال کو سمجھتے ہیں، پھر اسی کے علمی اصولوں کے مطابق اس کا تجزیہ اور جواب پیش کرتے ہیں یہ طرزِ تحریر ان کے علمی وقار، وسعتِ مطالعہ اور تحقیقی دیانت کا مظہر ہے ۔
اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ ان اکابر علماء کی گراں قدر آراء سے بھی ہوتا ہے جنہوں نے اس کتاب کے بارے میں پیش کی ہیں ۔
جب ہم اس سلسلے میں بانی جمہوریہ اسلامی ایران حضرت امام خمینی علیہ الرحمہ کے نظریات کو دیکھتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کتاب ہماری ملت کے لئے کتنی بڑی نعمت ہے۔
امام خمینی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کشف اسرار میں تحریر فرماتے ہیں:جو بھی حدیث غدیر کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے وہ سید بزرگ وارمیر حامد حسین ہندی کی کتاب عبقات الانوار کو پڑھا۔ اُنھوں نے چار ضخیم جلدیں حدیث غدیر کے سلسلے میں تحریر کی ہیں اور امامت کے موضوع پر ایسی کتاب آج تک نہیں لکھی گئی ۔ عبقات الانوار کے بارے میں جیسا کہ سنا گیا کہ تیس جلدوں پر مشتمل ہے ۔ میں نے سات آٹھ جلدیں دیکھی ہیں اور ایران میں غالباً پندرہ جلدیں دستیاب ہیں ۔
مخالف اس کتاب کی جمع آوری اور اس کو ضائع کرنے کی فکر میں ہے اور ہماری قوم سو رہی ہے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اس وقت بیدار ہوں جب اس طرح کا قیمتی سرمایہ اور بیش قیمت گوہر ہمارے ہاتھوں سے نکل چکا ہو ۔ تقریباً دو سال پہلے ١٣٦٢ ھ میں نے شیعہ قوم کے سامنے اس کتاب کی دوبارہ اشاعت کی تجویز رکھی تھی لیکن اس پر توجہ نہیں ہوئی اگر چہ اس وقت حدیث غدیر زیر طبع ہے ۔
لیکن شیعہ علماء پر خصوصی طور سے اور دوسرے تمام افراد پر لازم ہے کہ اس عظیم کتاب کوجو ہمارے مذہب کی سب سے بڑی حجت ہے ضائع ہونے سے بچائیں اور اس کی نشر و اشاعت کریں۔
امام خمینی نے اپنی اس تحریر میں چند اہم نکات کی طرف علماء اور عام مؤمنین کو متوجہ فرمایا ہے:
١. موضوع امامت پر یہ ایسی عظیم الشان تالیف ہے کہ اس جیسی کتاب آج تک نہیں لکھی گئی ۔
٢. مخالفین اس کتاب کو ضائع کرنے کی فکر میں ہیں ۔ لہذا ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس کی حفاظت کریں ۔
٣. اس گراں قدر سرمایہ کی نشر و اشاعت ہوتی رہنی چاہیے تاکہ نسل نو اس سے آشنا رہے ۔
٤. شیعہ علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس عظیم حجت کی نگرانی کریں ۔
لہذا اس بیان کے تناظر میں ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس کتاب کی ہر زبان میں اعلی پیمانے پر اشاعت ہونی چاہیے تاکہ ہر فرد تک یہ کتاب پہونچ سکے ۔
یہ حقیقت ہے کہ برصغیر میں شیعہ علمی روایت کے ارتقا اور فروغ میں عبقات الانوار کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کتاب نے ثابت کیا کہ ہندوستانی علما بھی حدیث، رجال، تاریخ، کلام اور تقابلی مذہبی مطالعات میں عالمی سطح کے تحقیقی کارنامے انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
علامہ میر حامد حسینؒ نے اس کتاب کے ذریعہ لکھنؤ کو ایک ایسے علمی مرکز کے طور پر متعارف کرایا جہاں سے اسلامی دنیا کے لیے ایک عظیم تحقیقی سرمایہ وجود میں آیا۔
اور یہ تصنیف بعد کے محققین کے لیے بھی ایک علمی رہنما اور تحقیقی سرچشمہ بن گئی۔
راقم نے علامہ میر حامد حسینؒ کی حیات اور خدمات کے سلسلے میں مبسوط کتاب بعنوان " تذکرہ علامہ میر حامد حسینؒ" تحریر کی ہے جو فروری ٢٠٢٤ میں ولایت پبلیکیشنز دہلی ہندوستان سے شائع ہوئی جسے کافی پزیرائی ملی۔










آپ کا تبصرہ